تحریر: مولانا عارف اعظمی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اسلامی تاریخ میں بعض ایام اور مناسبتیں محض تقویمی واقعات نہیں ہوتیں، بلکہ وہ امتِ مسلمہ کو اپنی اجتماعی ذمہ داریوں، مشترکہ اقدار اور بنیادی ترجیحات کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ہفتۂ وحدت بھی ایسی ہی ایک بابرکت اور دوراندیشانہ مناسبت ہے جو میلادِ باسعادت حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی مناسبت سے مسلمانوں کو محبت، اخوت، اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہے۔ آج جبکہ امتِ مسلمہ داخلی اختلافات، بیرونی چیلنجز اور پیچیدہ سیاسی و اجتماعی حالات سے دوچار ہے، ہفتۂ وحدت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
رسول اکرم ﷺ؛ وحدتِ امت کا محور
رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد انسانوں کو جہالت، تعصب، تفرقہ اور ظلم کے اندھیروں سے نکال کر توحید، عدالت، اخلاق اور اخوت کی روشنی میں جمع کرنا تھا۔ قرآن کریم مسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیتا ہے: «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا»
یعنی اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔
یہ آیت صرف انفرادی نصیحت نہیں بلکہ امت کے اجتماعی نظام کے لیے ایک بنیادی اصول ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو رنگ، نسل، زبان، قوم، جغرافیہ اور مسلک کے امتیازات سے بالاتر ہوکر ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن اور ایک قبلہ کے گرد جمع ہونے کی دعوت دی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد اخوت، عدل، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری پر قائم تھی۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لیے جسدِ واحد قرار دیا۔ اس لیے امت کی وحدت دراصل سیرتِ رسول اکرم ﷺ کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔
حالاتِ حاضرہ اور اتحادِ امت کی ضرورت
آج دنیا ایک غیر معمولی دور سے گزر رہی ہے۔ مسلم دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، سیاسی بحران، معاشی مشکلات، انتہاپسندی اور انسانی المیوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ فلسطین اور غزہ کے حالات نے پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دوسری طرف دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو اسلاموفوبیا، مذہبی تعصب اور نفرت انگیز رویوں کا سامنا ہے۔
ایسے حالات میں اگر مسلمان باہمی اختلافات میں اپنی توانائیاں صرف کرتے رہیں تو وہ اپنے بڑے اجتماعی مسائل کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امت اپنے مشترکہ مسائل، مشترکہ اقدار اور مشترکہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آئے۔
اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مسلمان پر ظلم ہو تو دوسرا مسلمان اس کے درد کو محسوس کرے؛ جب کسی خطے میں انسانی المیہ رونما ہو تو پوری امت انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر اس کے ساتھ کھڑی ہو؛ اور جب اسلام یا مقدساتِ اسلامی کی توہین ہو تو مسلمان حکمت، اخلاق اور قانونی و پرامن ذرائع سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
فرقہ واریت؛ امت کے لیے ایک بڑا چیلنج
موجودہ دور میں فرقہ وارانہ نفرت امت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ بعض اوقات معمولی فقہی یا فکری اختلافات کو اس قدر بڑھا دیا جاتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ایمان، کردار اور نیت پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں رابطے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں غیر ذمہ دارانہ تحریروں، جھوٹی خبروں، اشتعال انگیز ویڈیوز اور نفرت انگیز مواد کے ذریعے اختلافات کو بڑھانے کا ایک نیا میدان بھی پیدا کردیا ہے۔
یہاں علماء، دینی مراکز، تعلیمی اداروں، دانشوروں اور مذہبی کارکنوں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں ایسی زبان اور ایسا طرزِ بیان اختیار کرنا ہوگا جو اختلاف کے باوجود احترام، مکالمے اور باہمی اعتماد کو فروغ دے۔
نوجوان نسل اور اتحادِ امت
امت کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت، تعصب اور مسلکی دشمنی پیدا کردی جائے تو مستقبل میں اتحادِ امت کا خواب مزید مشکل ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اگر انہیں قرآن، سیرتِ رسول اکرم ﷺ، اخلاق، عدل، رواداری، علمی اختلاف اور انسانی احترام کی تعلیم دی جائے تو وہ امت کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہفتۂ وحدت کے پروگرام صرف جلسوں، جلوسوں اور تقاریر تک محدود نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ان کے ذریعے نوجوانوں کے لیے علمی نشستیں، بین المسالک مکالمے، سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعاتی پروگرام، مشترکہ سماجی خدمت اور فکری و تربیتی سرگرمیاں بھی منعقد کی جانی چاہئیں۔
علماء کی ذمہ داری
اتحادِ امت کے فروغ میں علماء اور دینی رہنماؤں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ منبر و محراب عوام کے ذہنوں اور دلوں پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ علماء اپنے خطابات میں مشترکاتِ امت کو اجاگر کریں، اختلافی موضوعات میں اعتدال اختیار کریں اور عوام کو یہ سمجھائیں کہ اسلام نے انسانوں کو جوڑنے کے لیے بھیجا ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔
علماء اگر اپنے اپنے دائرۂ فکر کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ امت کے وسیع تر مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھیں تو معاشرے میں برداشت، رواداری اور باہمی احترام کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے۔
اتحاد صرف ایک نعرہ نہیں، ایک عملی ذمہ داری
اتحادِ امت محض کانفرنسوں اور تقریبات کا عنوان نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی اتحاد اس وقت وجود میں آئے گا جب ہم اپنی عملی زندگی میں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین سے اجتناب کریں، اختلافِ رائے کو برداشت کریں، افواہوں کی تحقیق کیے بغیر انہیں آگے نہ بڑھائیں اور باہمی تعاون کے دروازے کھلے رکھیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امت کی وحدت کا آغاز ہمارے اپنے گھر، محلے، مسجد، مدرسے، تعلیمی ادارے اور معاشرتی ماحول سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے قریب رہنے والے مسلمان کے ساتھ احترام اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ نہیں کرسکتا، وہ عالمی سطح پر اتحادِ امت کی بات کو مؤثر نہیں بنا سکتا۔
ہفتۂ وحدت؛ ایک تجدیدِ عہد
ہفتۂ وحدت ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم رسول اکرم ﷺ کی سیرت کی روشنی میں اپنے اجتماعی رویوں کا جائزہ لیں اور عہد کریں کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے، مسلکی وابستگی کو باہمی نفرت کا ذریعہ نہیں بنائیں گے اور امت کے مشترکہ مفادات کو ذاتی و گروہی ترجیحات پر مقدم رکھیں گے۔
ہمیں یہ عہد بھی کرنا ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، غیر مصدقہ خبروں اور اشتعال انگیز گفتگو کو فروغ نہیں دیں گے؛ بلکہ قرآن و سنت، اخلاق، حکمت اور عقلِ سلیم کی بنیاد پر اتحاد و اخوت کا پیغام عام کریں گے۔
نتیجہ
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ شعوری اتحاد ہے؛ ایسا اتحاد جو جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر فکر، کردار، عمل اور اجتماعی ذمہ داری کا حصہ بنے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو علمی دائرے میں رکھتے ہوئے اپنے مشترکہ دشمنوں، مشترکہ مسائل اور مشترکہ انسانی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔
ہفتۂ وحدت دراصل ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمارا رسول ایک ہے، ہمارا قرآن ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے، ہمارے بنیادی عقائد اور مشترکہ اقدار ایک ہیں؛ لہٰذا ہمارے اختلافات اتنے بڑے نہیں ہونے چاہئیں کہ وہ ہمارے درمیان محبت، اخوت اور اسلامی بھائی چارے کو ختم کردیں۔
آئیے اس ہفتۂ وحدت میں ہم صرف میلادِ رسول اکرم ﷺ کی خوشی نہ منائیں بلکہ سیرتِ رسول ﷺ کے ایک عظیم پیغام، یعنی اتحاد، اخوت، عدل، رحمت اور باہمی احترام کو اپنی زندگی کا عملی شعار بنانے کا عہد کریں۔
کیونکہ آج کے پُرآشوب دور میں امت کی قوت اس کے اختلافات میں نہیں، بلکہ اس کے اتحاد، بصیرت، اخلاص اور مشترکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔









آپ کا تبصرہ